حدیث نمبر: 82
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”با جماعت نماز تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجے زیادہ فضیلت والی ہے۔“

وضاحت:
➊ جس طرح نماز فرض ہے اسی طرح نماز با جماعت بھی فرض ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿أَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأَتُوا الزَّكوة وَارْكَعُوا مَعَ الركعِينَ﴾ [البقرہ: 43]
اور نماز قائم کرو اور زکاۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
➋ اسلام میں اجتماعیت پر زیادہ زور دیا گیا ہے، کیونکہ اجتماعیت سے آپس میں محبت اور جذبہ عمل بڑھتا ہے اکیلا آدمی سست بن جاتا ہے ایک روایت میں ستائیس اور دوسری میں چھبیس کا ذکر ہے اس کی مختلف توجیہات بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً
(الف) اس سے مراد کثرت ثواب ہے نہ کہ مخصوص عدد جیسے کہتے ہیں میں نے تمہیں 100 دفعہ کہا ہے مراد کثرت ہوتی ہے اگر چہ سو دفعہ نہ کہا ہو۔
(ب) بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جہری نمازیں ستائیس گنا اور سری نمازیں چھبیس گنا زیادہ ثواب کی حامل ہیں۔
(ت) خشوع و خضوع کے اعتبار سے ثواب بڑھتا اور کم ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 82
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاة الجماعة و بیان التشديد في التخلف عنها ، رقم : 649۔