حدیث نمبر: 8
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، مِثْلَهُ , وَزَادَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " اقْرَأْ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى , وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَنَحْوِهَا " . قَالَ سُفْيَانُ : فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ : إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ يَقُولُ : قَالَ لَهُ : " اقْرَأْ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى , وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ " . فَقَالَ عَمْرٌو : هُوَ هَذَا , أَوْ نَحْوُ هَذَا .
نوید مجید طیب

ابو زبیر رحمہ اللہ نے سابقہ روایت کی طرح سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اس میں اتنا اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سورۃ الاعلیٰ، سورۃ اللیل، سورۃ الطارق اور ان جیسی چھوٹی سورتیں پڑھ لیا کر راوی کہتے ہیں یہ یا اس طرح کی اور چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھنے کا حکم دیا۔

وضاحت:
➊ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی پہلی نماز فرضی اور دوسری نفلی شمار ہوتی تھی۔
➋ امام و مقتدی کی نیت ایک جیسی ہونا ضروری نہیں۔
➌ شریعت میں آسانیاں ہیں اور عقل سے شریعت مقدم ہے۔
➍ نماز عشاء میں آدمی اگر اس وقت پہنچے کہ امام نماز تراویح پڑھا رہا ہو تو فرض کی نیت سے امام کے ساتھ اس حدیث کی روشنی میں شامل ہو جانا چاہیے امام سلام پھیر دے تو کھڑے ہو کر بقیہ نماز پوری کر لے۔ اسی طرح آدمی ظہر پڑھنے مسجد میں آئے اور عصر کی جماعت ہو رہی ہو تو اسے ظہر کی نیت سے شامل ہو جانا چاہیے بعد میں عصر اپنی پڑھ لے۔
➎ اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی رہنمائی ہے کہ آئمہ مساجد کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے جماعت کا اتفاق نہ توڑیں نیکی اگر فتنہ کا سبب بن رہی ہو تو متبادل جائز عمل اپنا لیں۔
➏ مزدور پیشہ لوگوں کے امام کو مختصر قراءت پر اکتفاء کرنا چاہیے باقی تقوی اکیلے میں قراءت کر کے پورا کر لینا چاہیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیماروں، معذوروں، اور بچوں کا خیال رکھتے تھے۔
➐ امام کی ذمہ داری محض جماعت کرانا ہی نہیں بلکہ اتفاق اتحاد برقرار رکھنا بھی امام کی ذمہ داری ہے۔
➑ نماز عشا میں چھوٹی سورتوں کی قرآت مسنون ہے البتہ نماز فجر میں لمبی قرآت کرنا اولی ہے۔
➒ فہیم و صاحب بصیرت انسان سے غلطی ہو جائے تو سخت الفاظ سے مواخذہ جائز ہے۔
➓ سیدنا معاذ بن جبل خزرجی انصاری رضی اللہ عنہ ہیں امام الفقہاء لقب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کا گورنر بنایا امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شام کا گورنر تعینات کیا نبوی ہجرت سے 18 سال قبل پیدا ہوئے 18 ھ کو 36 سال کی عمر میں عین جوانی کے عالم میں طاعون کی بیماری سے شام کے علاقوں میں کفر کے خلاف اسلامی سرحدوں کا پہرہ دیتے ہوئے وفات پائی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 8
تخریج حدیث تخريج الحدیث: صحيح مسلم، الصلاة، باب القرأة في العشاء، رقم: 465.