السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة في السفر— سفر میں نماز کا بیان
باب ما جاء في الصلاة في السفر باب: سفر میں نماز کا بیان
حدیث نمبر: 9
وَأَنْبَأَنَا وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ " يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ , ثُمَّ يَنْطَلِقُ إِلَى قَوْمِهِ , فَيُصَلِّيهَا لَهُمْ , هِيَ لَهُ تَطَوُّعٌ , وَهِيَ لَهُمُ الْمَكْتُوبَةُ الْعِشَاءُ " .نوید مجید طیب
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھتے پھر جا کر اپنی قوم کو نماز عشاء پڑھاتے جو ان کی نفلی نماز ہوتی اور لوگوں کی فرضی شمار ہوتی۔
وضاحت:
➊ معلوم ہوا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں فرض ادا کرتے اور بعد میں بطور امام نوافل پڑھتے تھے۔
➋ فرض ادا کرنے والے کے پیچھے متنفل اور نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرائض کی ادائیگی درست ہے۔
➌ سیدنا جابر بن عبد اللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کے والد بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے، غزوہ احد میں شہید ہوئے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ 19 غزوات میں صف اول کے مجاہد رہے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حج اور غزوات کے واقعات خوب محفوظ کئے اور ان کو بیان کیا۔ ان کی وفات مدینہ میں 74 ھ اور بعض روایات کے مطابق 78 ھ میں ہوئی ہے جنازہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے پڑھایا مرویات کی تعداد 1540 بتائی جاتی ہے۔
➋ فرض ادا کرنے والے کے پیچھے متنفل اور نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرائض کی ادائیگی درست ہے۔
➌ سیدنا جابر بن عبد اللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کے والد بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے، غزوہ احد میں شہید ہوئے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ 19 غزوات میں صف اول کے مجاہد رہے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حج اور غزوات کے واقعات خوب محفوظ کئے اور ان کو بیان کیا۔ ان کی وفات مدینہ میں 74 ھ اور بعض روایات کے مطابق 78 ھ میں ہوئی ہے جنازہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے پڑھایا مرویات کی تعداد 1540 بتائی جاتی ہے۔