السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة في السفر— سفر میں نماز کا بیان
باب ما جاء في الصلاة في السفر باب: سفر میں نماز کا بیان
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ , أَوْ قَالَ : الْعَتَمَةَ , ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّيهَا بِقَوْمِهِ فِي بَنِي سَلِمَةَ , قَالَ : فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعِشَاءِ أَوْ قَالَ الْعَتَمَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ , قَالَ : فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَهُ , ثُمَّ رَجَعَ , فَأَمَّ قَوْمَهُ , فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ , فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ فَصَلَّى وَحْدَهُ , فَقِيلَ لَهُ : أَنَافَقْتَ ؟ قَالَ : لا , وَلَكِنِّي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ , وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ , ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا , فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ , فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ فَصَلَّيْتُ , وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ , نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا , فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ : " أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ ؟ ! أَفَتَّانٌ أَنْتَ ؟ ! اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا , وَسُورَةِ كَذَا " .سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نماز عشاء با جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر واپس جا کر اپنی قوم بنی سلمہ کو عشاء کی جماعت کراتے تھے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء تاخیر سے اداء کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھی پھر جا کر قوم کی امامت کرائی اور سورہ بقرہ شروع کر دی۔ ایک آدمی علیحدہ ہو گیا اور اس نے اکیلے نماز پڑھی۔ اسے کہا گیا: کیا تو منافق ہے؟ اس نے کہا: نہیں لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کروں گا۔ وہ صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے عشاء تاخیر سے پڑھائی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر واپس آکر ہمیں امامت کرائی اور سورۃ بقرۃ شروع کر دی، جب میں نے یہ دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور اپنی علیحدہ نماز پڑھ لی ہم مزدور لوگ ہیں اونٹوں پر پانی لاتے ہیں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنہ پھیلانے والا ہے؟ کیا تو فتنہ پھیلانے والا ہے؟ یہ یہ یعنی چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھ لیا کر۔