حدیث نمبر: 73
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو قِلابَةَ الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا وَاشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا بَعْدَنَا فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَأْمُرُوهُمْ " ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا وَلا أَحْفَظُهَا : " وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
نوید مجید طیب

سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے قبیلے کے لوگوں میں آیا، ہم ہم عمر نوجوان تھے، ہم نے بیس راتیں آپ ﷺ کے پاس قیام کیا (دین سیکھا)۔ رسول اللہ ﷺ بڑے رحم دل اور نرم مزاج تھے، جب آپ ﷺ کو محسوس ہوا کہ ہمیں گھر یاد آ رہا ہے تو ہم سے گھر والوں کے بارے میں پوچھا، ہم نے اہل و عیال کا بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اہل و عیال میں واپس جاؤ، ان میں رہ کر انہیں دین سکھاؤ اور دین کا حکم کرو۔“ چند اشیاء (دینی امور) کا انہوں نے ذکر کیا کچھ یاد ہیں اور بعض یاد نہیں، اور فرمایا: ”نماز اس طریقے سے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان دے اور جو بڑا ہو وہ جماعت کرائے۔“

وضاحت:
➊ قبل ازیں اس کی تفصیل گزر چکی ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھتے رہے واپس جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم ملا کہ نماز اسی طریقے سے پڑھنا جیسے مجھے دیکھ کر جا رہے ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم بھی دینا انہوں نے پھر ایسا ہی کیا مساجد میں عوام اکٹھی کر کے عملی طور پر نماز محمدی کی انہیں تعلیم دیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نماز پڑھتے تھے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحیم شفیق اور مزاج شناس تھے۔
➌ مہمانوں سے ان کے احوال کے علاوہ اہل خانہ کی خبر دریافت کرنا بھی سنت ہے۔
➍ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دینی تعلیم سیکھتے اور پھر اس کے داعی اور مبلغ بن کر اپنے علاقوں کو لوٹ جاتے تھے۔
➎ امامت کا حقدار علم میں بڑا آدمی ہے اگر سب اس صلاحیت میں برابر ہوں تو عمر میں بڑے آدمی کو ترجیح حاصل ہوگی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 73
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب الاذان للمسافر، رقم : 631، مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب من احق بالامامة، رقم : 674۔