السنن المأثورة
باب ما جاء في صلاة الخوف— نماز خوف کا بیان
باب ما جاء في صلاة الخوف باب: نماز خوف کا بیان
حدیث نمبر: 72
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : أُمِرَ بِلالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ ، وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ " .نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان دوہری اور اقامت اکہری کہیں۔
وضاحت:
➊ اذان کے دوہرے الفاظ ہیں اور اقامت سنگل ہے۔
➋ اذان ٹھہر ٹھہر کر کہی جاتی ہے اور اقامت جلدی۔
➌ اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں ہونی چاہیے جبکہ اقامت کے لیے یہ تقاضا نہیں ہے۔
➍ «حي على الصلاة» پر صرف گردن بدن کے بغیر دائیں جانب گھومانی چاہیے اور «حي على الفلاح» پر بائیں جانب۔
➎ اقامت کا بھی زیادہ حقدار وہی ہے جس نے اذان کہی۔
➏ بغیر عذر کے اذان کے بعد مسجد سے نہیں نکلنا چاہیے۔
➐ اذان سفر میں بھی دے کر نماز پڑھنی چاہیے ہاں اگر پاس آبادی ہے جس کی اذان وہاں گونج چکی ہے تو اذان نہ بھی دے تو کوئی حرج نہیں۔
➑ امام ضامن ہے یعنی اسے نماز کے آداب، طہارت، سنن، خشوع وخضوع کا خیال رکھنا چاہیے اور مؤذن کو امین کہا گیا ہے اس کی اذان پر اعتماد کر کے سحری افطاری، اور نماز ادا کی جاتی ہے لہذا اسے اوقات کا خیال رکھنا چاہیے۔
➒ ترجیع والی اذان کے 19 کلمات ہیں اس کو ہمارے عرف میں دوہری اذان کہتے ہیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ مؤذن دوسری دفعہ جب «اشهد ان محمداً رسول الله» کہہ لے پھر دوبارہ سے «اشهد أن لا اله الا الله» سے شروع کر کے آخر تک جائے یہ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان کے نام سے مشہور ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سکھائی اور وہ وہاں اسی طرح اذان دیتے تھے اگر اذان سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی ہو تو اقامت سترہ کلمات پر مشتمل دوہری ہوگی۔ [سنن ابی داؤد: 502]
➓ بعض الناس نے سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اقامت لے لی لیکن ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی اذان سے انکار کر دیا اللہ تعالیٰ انہیں احادیث و سنن ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ «آمين!»
⓫ مؤذن ایسا شخص ہونا چاہیے جس کی آواز بلند اور خوبصورت ہو بعض بزرگ حضرات کو ضد نہیں کرنی چاہیے جن کی نہ تجوید اچھی ہو اور نہ آواز کہ ایک آواز کے ساتھ دس آوازیں اور نکلیں۔
⓬ جب اذان مشروع نہیں تھی مشورہ کیا گیا لوگوں کو کیسے اکٹھا کیا جائے ایک رائے آئی کہ نرسنگا یہودیوں کی طرح صور پھونکا جائے دوسری رائے آئی کہ عیسائیوں کی طرح ناقوس دو لکڑیاں آپس میں مار کر آواز پیدا کی جائے اہل کتاب عبادات کے لیے ایسے ہی جمع کرتے تھے ایک رائے آگ جلانے کی پیش ہوئی، ایک رائے اعلان کرانے کی کچھ عرصہ اس پر عمل ہوا اعلان ہوتا (الصلاة جامعة الصلاة جامعة) اب نماز کسوف وخسوف کے لیے اس طرح اعلان کیا جاتا ہے۔ حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ کو فرشتے نے خواب میں آکر اذان سکھائی چونکہ محض امتی کے خواب سے شرعی حکم ثابت نہیں ہوسکتا تو جب اس خواب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درست قرار دیا اور اس پر عمل کا حکم دیا تو حکم شرعی بن گیا۔
➋ اذان ٹھہر ٹھہر کر کہی جاتی ہے اور اقامت جلدی۔
➌ اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں ہونی چاہیے جبکہ اقامت کے لیے یہ تقاضا نہیں ہے۔
➍ «حي على الصلاة» پر صرف گردن بدن کے بغیر دائیں جانب گھومانی چاہیے اور «حي على الفلاح» پر بائیں جانب۔
➎ اقامت کا بھی زیادہ حقدار وہی ہے جس نے اذان کہی۔
➏ بغیر عذر کے اذان کے بعد مسجد سے نہیں نکلنا چاہیے۔
➐ اذان سفر میں بھی دے کر نماز پڑھنی چاہیے ہاں اگر پاس آبادی ہے جس کی اذان وہاں گونج چکی ہے تو اذان نہ بھی دے تو کوئی حرج نہیں۔
➑ امام ضامن ہے یعنی اسے نماز کے آداب، طہارت، سنن، خشوع وخضوع کا خیال رکھنا چاہیے اور مؤذن کو امین کہا گیا ہے اس کی اذان پر اعتماد کر کے سحری افطاری، اور نماز ادا کی جاتی ہے لہذا اسے اوقات کا خیال رکھنا چاہیے۔
➒ ترجیع والی اذان کے 19 کلمات ہیں اس کو ہمارے عرف میں دوہری اذان کہتے ہیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ مؤذن دوسری دفعہ جب «اشهد ان محمداً رسول الله» کہہ لے پھر دوبارہ سے «اشهد أن لا اله الا الله» سے شروع کر کے آخر تک جائے یہ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان کے نام سے مشہور ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سکھائی اور وہ وہاں اسی طرح اذان دیتے تھے اگر اذان سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی ہو تو اقامت سترہ کلمات پر مشتمل دوہری ہوگی۔ [سنن ابی داؤد: 502]
➓ بعض الناس نے سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اقامت لے لی لیکن ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی اذان سے انکار کر دیا اللہ تعالیٰ انہیں احادیث و سنن ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ «آمين!»
⓫ مؤذن ایسا شخص ہونا چاہیے جس کی آواز بلند اور خوبصورت ہو بعض بزرگ حضرات کو ضد نہیں کرنی چاہیے جن کی نہ تجوید اچھی ہو اور نہ آواز کہ ایک آواز کے ساتھ دس آوازیں اور نکلیں۔
⓬ جب اذان مشروع نہیں تھی مشورہ کیا گیا لوگوں کو کیسے اکٹھا کیا جائے ایک رائے آئی کہ نرسنگا یہودیوں کی طرح صور پھونکا جائے دوسری رائے آئی کہ عیسائیوں کی طرح ناقوس دو لکڑیاں آپس میں مار کر آواز پیدا کی جائے اہل کتاب عبادات کے لیے ایسے ہی جمع کرتے تھے ایک رائے آگ جلانے کی پیش ہوئی، ایک رائے اعلان کرانے کی کچھ عرصہ اس پر عمل ہوا اعلان ہوتا (الصلاة جامعة الصلاة جامعة) اب نماز کسوف وخسوف کے لیے اس طرح اعلان کیا جاتا ہے۔ حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ کو فرشتے نے خواب میں آکر اذان سکھائی چونکہ محض امتی کے خواب سے شرعی حکم ثابت نہیں ہوسکتا تو جب اس خواب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درست قرار دیا اور اس پر عمل کا حکم دیا تو حکم شرعی بن گیا۔