حدیث نمبر: 74
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ خَيْبَرَ سَرَى حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلالٍ : " اكْلأْ لَنَا الصُّبْحَ " ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَكَلأَ بِلالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ اسْتَنَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ وَهُوَ مُقَابِلٌ الْفَجْرَ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا أَحَدٌ مِنَ الرَّكْبِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ ، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا بِلالُ أَيْنَ مَا قُلْتَ ؟ " فَقَالَ بِلالٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتَادُوا " فَبَعَثُوا رَوَاحِلَهُمْ فَاقْتَادُوا شَيْئًا ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلالا فَأَقَامَ الصَّلاةَ فَصَلَّى لَهُمُ الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ حِينَ قَضَى الصَّلاةَ : " مَنْ نَسِيَ الصَّلاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي " .
نوید مجید طیب

سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خیبر سے لوٹے، رات کو سفر کیا، رات کے آخری پہر پڑاؤ ڈالا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا پہرہ لگا کہ آپ نے نماز صبح کے لیے جگانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سو گئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی ہمت کے مطابق ڈیوٹی دی، پھر مشرق کی طرف منہ کر کے اپنی پیٹھ کجاوے سے لگائی تو ان کی بھی آنکھ لگ گئی اور سو گئے۔ فجر کے لیے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی نہ جاگا حتیٰ کہ سورج کی شعاعیں لگیں تو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ جاگے، گھبرا کر اٹھے اور فرمایا: ”اے بلال! کہاں گیا وہ جو تو نے کہا تھا؟“ وہ کہنے لگے: میری روح کو بھی اسی نے پکڑ لیا جس نے آپ کے نفس کو پکڑا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چلو کوچ کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سواریاں اٹھائیں، تھوڑا دور گئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ (اذان دو اور اقامت کہو)۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز فجر پڑھائی، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: ”جو نماز پڑھنا بھول جائے، جب اسے یاد آئے فوراً پڑھے، بے شک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ”میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔“ [طه: 14]

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في من نام عن صلاة أو فرط فيها / حدیث: 74
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها ، رقم : 680 ، موصولاً عن سعيد بن المسيب عن ابي هريرة۔