السنن المأثورة
باب ما جاء في صلاة الخوف— نماز خوف کا بیان
باب ما جاء في صلاة الخوف باب: نماز خوف کا بیان
حدیث نمبر: 71
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَتَبْسُطُ لَهُ نِطَعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ فَتَأْخُذُ مِنْ عَرَقِهِ فَتَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا وَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا .نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر جاتے تو وہ چمڑے کا بستر آپ کے لیے بچھا دیتی تھیں، آپ ﷺ اس پر قیلولہ فرماتے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کا پسینہ (جمع کر کے شیشی میں لے لیتی تھیں) جس کو اپنی خوشبو میں ملا لیتی تھیں اور آپ ﷺ کے لیے چٹائی بچھا دیتی تھیں جس پر آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے۔
وضاحت:
➊ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھرانے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص عقیدت تھی۔
➋ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پسینہ کو "سُک" نامی خوشبو میں ملاتی اور بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھڑے ہوئے بال بھی جمع کر لیتی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس سک کو سنبھال کر رکھا جب ان کی وفات کا وقت ہوا تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ ان کی حنوط میں اس کو ملایا جائے پھر اسی طرح کیا گیا۔ [صحیح بخاری: 6281]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے گھرانے سے بعض افراد نے تبرک کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بال حاصل بھی کیے تھے۔ [صحیح بخاری: 170]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ام سلیم رضی اللہ عنہا گھر نہیں تھی ادھر چمڑے کے بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے کسی نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو بتایا آپ کے گھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں اور آرام فرما رہے ہیں وہ آئیں دیکھا کہ آپ کا پسینہ چمڑے کے بستر پر جمع ہے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے خوشبوؤں کی ڈبیہ کھولی اور بستر سے پسینہ ڈبیہ میں ڈالنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے فرمایا سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا یہ کیا کر رہی ہو؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم اپنے بچوں کے لیے برکت کی امید رکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے درست کہا۔ [صحیح مسلم: 2331]
➌ یہ انبیاء علیہم السلام کا خاصہ ہے کہ ان کے مبارک اجسام اور ان کے استعمال میں رہنے والی اشیاء سے برکت حاصل کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اپنے مبارک سر کی دائیں جانب کے کٹے ہوئے مبارک بال دیئے اور پھر بائیں جانب کے بالوں سے متعلق حکم دیا کہ انہیں تقسیم کر دیں۔ [صحیح مسلم: 1305]
➍ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پسینہ سے خوشبو آتی تھی، یہ برکت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کسی امتی سے تبرکات حاصل کرنا امتی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کرنا ہے جو کہ سراسر جہالت ہے۔
➎ معلوم ہوا تعلق والوں کے ہاں آنا جانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➏ اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسرے کے گھر میں بھی سو جانے میں حرج نہیں۔
➐ دوسروں کے گھر میں جا کر نفلی نماز پڑھنا درست ہے۔
➋ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پسینہ کو "سُک" نامی خوشبو میں ملاتی اور بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھڑے ہوئے بال بھی جمع کر لیتی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس سک کو سنبھال کر رکھا جب ان کی وفات کا وقت ہوا تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ ان کی حنوط میں اس کو ملایا جائے پھر اسی طرح کیا گیا۔ [صحیح بخاری: 6281]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے گھرانے سے بعض افراد نے تبرک کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بال حاصل بھی کیے تھے۔ [صحیح بخاری: 170]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ام سلیم رضی اللہ عنہا گھر نہیں تھی ادھر چمڑے کے بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے کسی نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو بتایا آپ کے گھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں اور آرام فرما رہے ہیں وہ آئیں دیکھا کہ آپ کا پسینہ چمڑے کے بستر پر جمع ہے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے خوشبوؤں کی ڈبیہ کھولی اور بستر سے پسینہ ڈبیہ میں ڈالنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے فرمایا سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا یہ کیا کر رہی ہو؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم اپنے بچوں کے لیے برکت کی امید رکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے درست کہا۔ [صحیح مسلم: 2331]
➌ یہ انبیاء علیہم السلام کا خاصہ ہے کہ ان کے مبارک اجسام اور ان کے استعمال میں رہنے والی اشیاء سے برکت حاصل کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اپنے مبارک سر کی دائیں جانب کے کٹے ہوئے مبارک بال دیئے اور پھر بائیں جانب کے بالوں سے متعلق حکم دیا کہ انہیں تقسیم کر دیں۔ [صحیح مسلم: 1305]
➍ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پسینہ سے خوشبو آتی تھی، یہ برکت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کسی امتی سے تبرکات حاصل کرنا امتی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کرنا ہے جو کہ سراسر جہالت ہے۔
➎ معلوم ہوا تعلق والوں کے ہاں آنا جانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➏ اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسرے کے گھر میں بھی سو جانے میں حرج نہیں۔
➐ دوسروں کے گھر میں جا کر نفلی نماز پڑھنا درست ہے۔