السنن المأثورة
باب ما جاء في صلاة الخوف— نماز خوف کا بیان
باب ما جاء في صلاة الخوف باب: نماز خوف کا بیان
حدیث نمبر: 70
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ بِوَجْهِهِ بَعْدَمَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا ، إِنِّي لأَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي " .نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ اقامت کے بعد تکبیر تحریمہ سے قبل اپنا چہرہ صحابہ کی طرف کر کے متوجہ ہوئے تو فرمایا: ”صفیں درست کرو، اور آپس میں مل کر کھڑا ہو جاؤ میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔“
وضاحت:
➊ امام کو صفیں درست کرائے بغیر جماعت نہیں کرانی چاہیے۔
➋ صفیں درست کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پاؤں کے ساتھ پاؤں کندھے کے ساتھ کندھا ٹخنے کے ساتھ ٹخنہ ملایا جائے پاؤں کو کندھوں کی چوڑائی کے برابر کھولنا چاہیے نہ زیادہ نہ کم۔
➌ ایک صف سے دوسری صف کے درمیان بھی اتنا ہی فاصلہ ہو جتنا کہ سجدہ ہو جائے۔
➍ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے درمیان ایک طرف سے دوسری طرف چلتے اس دوران آپ ہمارے سینوں اور کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے «لا تختلفوا فتختلف قلوبكم» آگے پیچھے مت کھڑے ہوں ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف آجائے گا۔ [سنن ابی داؤد: 664]
➎ جہاں دیگر بہت سی سنتیں متروک ہو چکیں صف بندی کے سلسلہ میں یہ اہتمام بھی عرب و عجم سے رخصت ہو رہا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں سنتوں پر عمل پیرا رکھے۔ «آمين!»
➏ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے بھی اسی طرح دیکھتے تھے جیسے آگے دیکھتے تھے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا، مہر نبوت سے دیکھنا ہو تب بھی اور اگر ویسے اللہ دیکھا دے تب بھی یہ علم غیب نہیں بلکہ معجزہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➋ صفیں درست کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پاؤں کے ساتھ پاؤں کندھے کے ساتھ کندھا ٹخنے کے ساتھ ٹخنہ ملایا جائے پاؤں کو کندھوں کی چوڑائی کے برابر کھولنا چاہیے نہ زیادہ نہ کم۔
➌ ایک صف سے دوسری صف کے درمیان بھی اتنا ہی فاصلہ ہو جتنا کہ سجدہ ہو جائے۔
➍ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے درمیان ایک طرف سے دوسری طرف چلتے اس دوران آپ ہمارے سینوں اور کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے «لا تختلفوا فتختلف قلوبكم» آگے پیچھے مت کھڑے ہوں ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف آجائے گا۔ [سنن ابی داؤد: 664]
➎ جہاں دیگر بہت سی سنتیں متروک ہو چکیں صف بندی کے سلسلہ میں یہ اہتمام بھی عرب و عجم سے رخصت ہو رہا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں سنتوں پر عمل پیرا رکھے۔ «آمين!»
➏ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے بھی اسی طرح دیکھتے تھے جیسے آگے دیکھتے تھے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا، مہر نبوت سے دیکھنا ہو تب بھی اور اگر ویسے اللہ دیکھا دے تب بھی یہ علم غیب نہیں بلکہ معجزہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔