حدیث نمبر: 6
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ : بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ , عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأُذِّنَ بِالصَّلاةِ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى , ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ؟ ! " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَلَكِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ , وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : النَّاسُ كُلُّهُمْ يَقُولُونَ : بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ غَيْرُ الثَّوْرِيِّ , فَإِنَّهُ يَقُولُ : بِشْرُ بْنُ مِحْجَنٍ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي دَاوُدَ الْبُرُلُّسِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ صَالِحٍ مَسْجِدِ الْجَامِعِ قَبْلَ أَنْ يَلْزَمَ بَيْتَهُ يَقُولُ : سَأَلْتُ جَمَاعَةً مِنْ وَلَدِ ابْنِ مِحْجَنٍ هَذَا وَمِنْ رَهْطِهِ عَنِ اسْمِهِ فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ مِنْهُمُ اثْنَانِ أَنَّهُ بِشْرٌ كَمَا قَالَ الثَّوْرِيُّ وَلَيْسَ كَمَا قَالَ مَالِكٌ .
نوید مجید طیب

سیدنا محجن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ مجلس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تھے کہ مؤذن نے اذان دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اٹھے، نماز پڑھی پھر واپس آئے تو دیکھا کہ محجن رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا، کیا تو مسلمان نہیں؟ محجن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیوں نہیں! لیکن میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مسجد میں آؤ تو با جماعت نماز پڑھو اگر چہ پہلے اکیلے پڑھ چکے ہو۔

وضاحت:
➊ نماز نہ پڑھنا غیر مسلم کا شیوہ ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے از راہ تعجب فرمایا: کیا تو مسلمان نہیں؟
➋ معلم اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت کی جبکہ پیروکار پہلے فتوی لگاتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
➌ اکیلے نماز پڑھی پھر جماعت مل گئی تو جماعت کے ساتھ شامل ہو جائیں پہلی نفل ہو جائے گی عقل پرست کہتے ہیں کہ فجر اور عصر و مغرب دوبارہ نہ پڑھے کیونکہ فجر وعصر کے بعد نفل جائز نہیں اور مغرب تین رکعت ہے اور تین رکعت نفل نہیں ہوتے حالانکہ اگر پہلی نفل ہو جائے تو عصر و فجر کا اشکال رفع ہو جاتا ہے۔
➍ مزید مسائل کے لیے دیکھئے حدیث نمبر 8۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 6
تخریج حدیث سنن نسائی، الامامة، باب اعادة الصلاة مع الجماعة بعد صلاة الرجل لنفسه، رقم: 857 وقال الالباني : صحيح، وصححه ابن حبان في صحيحه والحاكم في المستدرك 1/244.