حدیث نمبر: 66
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاةَ فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ , وَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ , وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ لَهَا , مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا , وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم باجماعت نماز کی طرف آؤ تو مت دوڑو عام چال میں آؤ، سکون و وقار کو لازم پکڑو، جو جماعت کے ساتھ نماز مل جائے پڑھ لو جو رہ جائے بعد میں پوری کر لو۔“

وضاحت:
➊ مسجد اللہ کا گھر ہے جس کا ادب و احترام لازم ہے اس میں دوڑنا نامناسب ہے لہذا اپنی رکعت بچانے کے لیے مسجد کی بے حرمتی کرنا، دوڑ کر نمازیوں کے خشوع میں خلل ڈالنا کسی صورت مناسب نہیں۔ [صحیح بخاری: 636، صحیح مسلم: 602]
﴿فاقضوا﴾ سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جب نماز میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس کی پہلی رکعت ہوتی ہے اور جو سلام کے بعد پڑھتا ہے وہ آخری رکعات ہوتی ہیں لیکن یہ سادہ سی بات ان لوگوں کو کون سمجھائے جن کے ہاں نہ ترتیب وضوء ضروری اور نہ نماز میں رکعات کی ترتیب ضروری سمجھتے ہیں۔
عقل کے اندھوں کو سب الٹا نظر آتا ہے
لیلی نظر آتا ہے مجنوں نظر آتی ہے
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 66
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب لا یسعی الی الصلاة، رقم: 636؛ صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب اتیان الصلاة بوقار وسکینة، رقم: 602۔