السنن المأثورة
باب ما جاء في صلاة الخوف— نماز خوف کا بیان
باب ما جاء في صلاة الخوف باب: نماز خوف کا بیان
حدیث نمبر: 67
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الإِقَامَةَ فَامْشُوا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اقامت سنو تو نماز کے لیے چل پڑو اور تم وقار کو لازمی پکڑو جو امام کے ساتھ مل جائے پڑھ لو جو فوت ہو جائے بعد میں پوری کر لو۔“
وضاحت:
➊ معلوم ہوا جب اقامت کی آواز سنائی دے صف بندی شروع کر دینی چاہیے، «حي على الصلاة» کے الفاظ سن کر اٹھنا اور صف بندی کرنا خود ساختہ طریقہ ہے۔
➋ نماز ذہنی و جسمانی تسکین کے لیے ہے لہذا نمازی کو نماز کے لیے پرسکون ہو کر آنا چاہیے۔
➋ نماز ذہنی و جسمانی تسکین کے لیے ہے لہذا نمازی کو نماز کے لیے پرسکون ہو کر آنا چاہیے۔