حدیث نمبر: 65
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ إِذَا جَاءَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ صَلاتِهِ سَأَلَ , فَإِذَا أُخْبِرَ كَمْ سُبِقَ صَلَّى الَّذِي سُبِقَ , ثُمَّ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ , فَأَتَى ابْنُ مَسْعُودٍ , فَدَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ وَلَمْ يَسْأَلْ , فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَضَى مَا بَقِيَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَدْ سَنَّ لَكُمْ سُنَّةً فَاتَّبِعُوهَا " . قَالَ سُفْيَانُ : وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو : هُوَ مُعَاذٌ . قَالَ الْمُزَنِيُّ : يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ أَنْ يَسُنَّ هَذِهِ السُّنَّةَ , فَوَافَقَ ذَلِكَ فِعْلَ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَذَلِكَ أَنَّ بِالنَّاسِ حَاجَةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ مَا سَنَّ , وَلَيْسَ بِهِمْ حَاجَةٌ إِلَى غَيْرِهِ , فَالسُّنَّةُ سُنَّتُهُ , لا تَجِبُ وَلا تَكُونُ مِنْ غَيْرِهِ .
نوید مجید طیب

سیدنا عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (ابتداء اسلام میں) جب کوئی آدمی آتا رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے ہوتے کچھ رکعت گزر چکی ہوتیں آدمی دوسرے نمازی سے پوچھ لیتا (کہ کونسی رکعت چل رہی ہے) جب اسے بتایا جاتا تو جلدی سے سابقہ رکعات پڑھ کر نبی ﷺ کے ساتھ مل جاتا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے تو جماعت کے ساتھ شامل ہو گئے یہ نہ پوچھا کتنی پڑھی جا چکی ہیں جب نبی ﷺ نے سلام پھیرا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر بقیہ نماز پوری کر لی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے صحابہ! ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے تمہارے لیے ایک طریقہ اختیار کیا تم بھی ایسے ہی کیا کرو۔“ (یعنی جس حال میں امام کو پاؤ اس کے ساتھ مل جاؤ بقیہ نماز بعد میں پوری کرو بجائے اس کے ہر ایک اپنی گذشتہ رکعات پوری کر کے شامل ہو کہ کوئی قیام میں کوئی رکوع میں کوئی سجدہ میں پڑھا ہو ایک نظم و ضبط ہونا چاہیے۔) راوی سفیان کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار کے علاوہ راویوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا نام لیا ہے۔ (یعنی وہ صحابی ابن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے۔)

وضاحت:
➊ مذکورہ احادیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ ابتداء اسلام میں نماز میں کلام سے منع نہ کیا گیا تھا، اسلام کے احکام چونکہ آہستہ آہستہ نازل ہوئے ہیں جوں جوں حکم آتا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رہ نمائی کرتے گئے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ یا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے فعل کو چونکہ حدیث تقریری سے اولا تائید ملی پھر قولی تائید ملی تو فی الحقیقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فرمان ہو گیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہر بات سنت کا درجہ رکھتی ہے۔ امتی کی بات نہ سنت ہوتی ہے نہ دین جب تک کہ اس پر زبان رسالت سے مہر نہ ثبت ہو۔
➋ ان احادیث میں کوفیوں کا بھی رد ہے جو ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ﴾ مکی آیت سے فاتحہ نہ پڑھنے پر استدلال کرتے ہیں آیت صحیح ہے البتہ استدلال باطل ہے کیونکہ مدینہ میں بھی ابتداء اسلام میں نماز میں کلام کی اجازت بھی تھی، سلام کا جواب دیا جاتا، رکعات کی تعداد تک بتائی جاتی تو مکی آیت نے اس کلام کو تو نہ روکا سورۃ فاتحہ خلف الامام کو کیسے روک دیا؟
خود بدلتے نہیں، قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
➌ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت کے لیے دیکھئے [سنن ابی داؤد: 506، 507]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 65
تخریج حدیث السنن المأثورة عن الشافعی للمزنی، رقم: 64؛ نصب الرایة للزیلعی 2/273۔