أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ نَادَاهُ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ ، فَقَالَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْقَوْلَ ، فَقَالَ : " نَعَمْ ، إِلا الدَّيْنَ ، كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ " .سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں صبر کرتا ہوا ثواب کی نیت اور مقابلہ کرتا ہوا جہاد سے پیٹھ نہ پھیروں اس حالت میں شہید ہو جاؤں، تو کیا میرے گناہ معاف ہو جائیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ جب آدمی واپس ہو گیا اسے دوبارہ بلایا یا اسے بلانے کا حکم دیا وہ آیا تو دریافت کیا: ”تو نے کیا سوال کیا؟“ اس نے بات دہرائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں مگر قرض معاف نہیں ہوگا مجھے جبریل علیہ السلام نے ایسا ہی بتایا ہے۔“
➋ معلوم ہوا قرض کی ادائیگی انتہائی اہم ہے اس سے انسانی جان معلق ہو جاتی ہے حتی کہ شہید فی سبیل اللہ کے لیے قرض کی ادائیگی کے سوا چارہ نہیں۔
➌ شریعت و دین منجانب اللہ ہے، کتاب و سنت دونوں وحی ہیں۔ جبریل علیہ السلام دونوں کو لے کر پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے رہے۔