حدیث نمبر: 646
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ : " تَعَالَ ، هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ يَقُولُ : إِلا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں صبر کرنے والا، خالص نیت، مقابلہ کرنے والا بھاگنے والا نہیں بن کر چلاؤں تو کیا میرے گناہ معاف ہو جائیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو جب آدمی واپس ہوا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بلایا) اور کہا : ”جبرئیل علیہ السلام آئے ہیں انہوں نے کہا ہے مگر یہ کہ تجھ پر قرض ہو۔“