حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ فَكَانَتْ لا تُسْبَقُ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَابَقَهَا فَسَبَقَهَا ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلا وَضَعَهُ " .
نوید مجید طیب

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک عضباء نامی اونٹنی تھی، اس سے دوڑ میں کوئی آگے نہ ہو سکتا تھا، ایک دیہاتی اپنے اونٹ پر آیا تو اونٹنی سے آگے نکل گیا مسلمانوں پر بڑا گراں گزرا، جب ان کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عضباء سے آگے نکل گیا ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر حق ہے کہ دنیا میں ہر عروج کو زوال بھی دیتا ہے۔“

وضاحت:
➊ گھریلو جانوروں کے نام رکھے جا سکتے ہیں۔
➋ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر «باب التواضع» (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی و انکساری اور تواضع کا بیان) کے نام سے ترجمتہ الباب بھی قائم کیا ہے۔
➌ عروج ملنے پر انسان خدا نہ بن جائے اسی لیے اللہ رب العزت نے زوال بھی رکھا ہے، عروج و زوال انسانی زندگی کا حصہ ہیں اللہ کا پسندیدہ بندہ وہ ہے جو عروج میں متکبر نہ بنے، عاجزی و انکساری کو اختیار کرے ورنہ زوال تو انسان کو عاجز بنا ہی دیتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 645
تخریج حدیث صحیح بخاری، الجہاد، باب ناقۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، رقم: 2872۔