حدیث نمبر: 644
أَنْبَأَنَا مَالِكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيمَنْ سَابِقَ بِهَا " .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تضمیر شدہ گھوڑوں کا مقابلہ حفیاء سے ثنیہ الوداع تک کرایا اور غیر تضمیر شدہ کا مقابلہ ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک کرایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے گھوڑ دوڑ میں شرکت کی۔
وضاحت:
➊ سبق باء پر جزم کا مطلب ہے مقابلہ میں آگے بڑھنا اور سبق باء پر زبر جو مقابلہ جیتنے پر انعام ملتا ہے اسے کہتے ہیں، مذکورہ احادیث کے پیش نظر دیگر مقابلے بیل دوڑ، کبوتر اڑانا، کتے لڑانا سب حرام اور باطل ہیں یہ جوا ہے۔
➋ مزید توضیح اور شرح کے لیے دیکھئے حدیث نمبر 640۔
➋ مزید توضیح اور شرح کے لیے دیکھئے حدیث نمبر 640۔