حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " سَابَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ فَأَرْسَلَ مَا أُضْمِرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَمَا لَمْ يُضْمَرْ مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ دوڑ کرائی جو (جہاد کے لیے) تیار شدہ گھوڑے تھے ان کی حد حفیاء سے ثنیہ الوداع تک تھی اور جو نئے گھوڑے تھے ان کی ثنیہ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑ کرائی۔

وضاحت:
➊ جہاد کی مشقیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کرواتے، جہاد کے لیے گھوڑوں کو خاص طور پر تیار کیا جاتا تھا جس کو تضمیر کہتے تھے۔
➋ تضمیر کا مطلب ہے گھوڑوں کو دوڑ کی تیاری کے لیے ایک عرصہ تک کھڑا کر کے کھلانا اور میدان میں ہلکا پھلکا کر کے دوڑانا، کھلانے کی یہ مدت عربوں کے یہاں چالیس دن ہوتی تھی۔ [القاموس الوحيد: ص 976]
➌ حفیاء سے ثنیۃ الوداع کا فاصلہ پانچ سے چھ میل جبکہ ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک کا فاصلہ ایک میل ہے۔ [صحیح بخاری: 2868]
➍ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے دوڑ جیتی تھی۔ [صحیح بخاری: 2869]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 641
تخریج حدیث صحیح مسلم، الامارہ، باب المسابقۃ بین الخیل وتضمیرہا، رقم: 1870۔