حدیث نمبر: 640
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْشُدُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَسَمِعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّا لا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ " ؟ قَالُوا : نَعَمْ " .نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عثمان، علی، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کو قسم دی کہ میں آپ لوگوں کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ہم وارث نہیں بناتے ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے؟“ تو سب نے فرمایا: جی ہاں۔
وضاحت:
➊ انبیاء علیہم السلام کی وراثت دو طرح کی ہے۔
(الف) علم وحی کی وراثت۔
(ب) مال و جائیداد کی وراثت۔
➋ علم وحی کی وراثت سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ان العلماء ورثة الانبياء وان الانبياء لم يورثوا ديناراً ولا درهماً ورثوا العلم» [سنن ابی داؤد: 3641]
بلاشبہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کوئی درہم و دینار ورثے میں نہیں چھوڑے ہیں، انہوں نے علم کی وراثت چھوڑی ہے۔
قرآنی آیات ﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَنُ دَاوُدَ﴾ [النمل: 16] اور سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث بنے۔ اور ﴿یَّرِثُنِیۡ وَ یَرِثُ مِنۡ اٰلِ یَعۡقُوۡبَ﴾ [مریم: 6] جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔ سے یہی وراثت علم وحی مراد ہے۔
➌ مال و جائیداد کی وراثت کو رشتہ داروں میں تقسیم نہیں کیا جاتا بلکہ وہ امت کے اجتماعی مفاد میں بطور صدقہ تقسیم ہوتا ہے۔
(الف) علم وحی کی وراثت۔
(ب) مال و جائیداد کی وراثت۔
➋ علم وحی کی وراثت سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ان العلماء ورثة الانبياء وان الانبياء لم يورثوا ديناراً ولا درهماً ورثوا العلم» [سنن ابی داؤد: 3641]
بلاشبہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کوئی درہم و دینار ورثے میں نہیں چھوڑے ہیں، انہوں نے علم کی وراثت چھوڑی ہے۔
قرآنی آیات ﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَنُ دَاوُدَ﴾ [النمل: 16] اور سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث بنے۔ اور ﴿یَّرِثُنِیۡ وَ یَرِثُ مِنۡ اٰلِ یَعۡقُوۡبَ﴾ [مریم: 6] جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔ سے یہی وراثت علم وحی مراد ہے۔
➌ مال و جائیداد کی وراثت کو رشتہ داروں میں تقسیم نہیں کیا جاتا بلکہ وہ امت کے اجتماعی مفاد میں بطور صدقہ تقسیم ہوتا ہے۔