حدیث نمبر: 642
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا سَبَقَ إِلا فِي نَعْلٍ ، أَوْ حَافِرٍ ، أَوْ خُفٍّ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیر اندازی، گھوڑ سواری اور اونٹ دوڑ کے علاوہ کسی چیز میں مقابلہ کرانا درست نہیں۔“
وضاحت:
➊ جس مقابلے سے مقصد جہاد پورا ہو وہ جائز ہے اور جو جوا بازی اور ٹائم کا ضیاع یا جھوٹی شہرت ہے وہ ناجائز ہیں۔
➋ اگر انعام دینے والا بھی مقابلے میں شریک ہے تو انعام ناجائز ہے کیونکہ یہ جوا ہے کہ گویا ہارنے والا تاوان بھرے گا۔
➋ اگر انعام دینے والا بھی مقابلے میں شریک ہے تو انعام ناجائز ہے کیونکہ یہ جوا ہے کہ گویا ہارنے والا تاوان بھرے گا۔