حدیث نمبر: 634
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ " حِينَ بَعَثَ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ .
نوید مجید طیب

ابن کعب بن مالک رحمہ اللہ اپنے چاچا سے بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابن ابی الحقیق کی طرف (فوجی دستہ) بھیجا تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع کیا۔

وضاحت:
➊ اسلام کا جہاد بھی بڑا مہذب ہے، بے گناہ اور کمزور کو حالت جنگ میں بھی قتل نہیں کرتا الا یہ کہ عورت مزاحمت کرے۔
➋ ابن ابی الحقیق نے خیبر میں عہد شکنی کی جس کی رو سے وہ واجب القتل تھا، اس نے شروط معاہدہ توڑتے ہوئے حیی بن اخطب کا زیورات سے بھرا بورا غائب کر دیا تھا، تو مقدمہ خیانت کبریٰ ثابت ہونے پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی گردن اڑائی اور اس کی عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 634
تخریج حدیث مسند الحمیدی: 386,385/2، رقم: 874، السنن الکبری للبیہقی: 78,77/9 و معرفہ السنن والآثار لہ: 146/4۔