حدیث نمبر: 633
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو دشمن کے علاقے میں لے جانے سے منع کیا۔
وضاحت:
➊ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و توقیر مسلمانوں پر فرض ہے۔
➋ مقدس اوراق کا مسلم معاشرے میں تحفظ یقینی بنانا حکومت اور عوام الناس کی ذمہ داری ہے۔
➌ قرآن اور حدیث کی کتابوں کو ایسی جگہوں پر لے جانا جہاں ان کی بے حرمتی کے امکانات ہوں درست نہیں۔
➍ بے عقل دشمن کتاب اللہ کی اب بھی بے حرمتی کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت حیوانی اصولوں پر کی گئی ہے، ان کی چکنی چپڑی دیکھ کر علم سے بے بہرہ نام نہاد دانشور انہیں مہذب قوم کہتے ہیں جب کہ تہذیب نام کی ان میں کوئی شے نہیں، سر عام زنا کرتے ہیں، ماں بہن کو بھی معاف نہیں کرتے، کرپشن اور چور قوم ہے، برصغیر کا سارا خزانہ ان کے بڑوں نے لوٹا، دوسرے ممالک کے اثاثوں پر گزر بسر کرتے آئے، اس کے برعکس تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ کسی مسلمان نے ان کی تحریف شدہ انجیل کو جلایا ہو یا کسی دوسرے مذہب کی مقدس کتاب سے بے حرمتی کی ہو، اسے کہتے ہیں تربیت، جس کا سہرا مسلم علماء امت کے سر ہے۔
➋ مقدس اوراق کا مسلم معاشرے میں تحفظ یقینی بنانا حکومت اور عوام الناس کی ذمہ داری ہے۔
➌ قرآن اور حدیث کی کتابوں کو ایسی جگہوں پر لے جانا جہاں ان کی بے حرمتی کے امکانات ہوں درست نہیں۔
➍ بے عقل دشمن کتاب اللہ کی اب بھی بے حرمتی کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت حیوانی اصولوں پر کی گئی ہے، ان کی چکنی چپڑی دیکھ کر علم سے بے بہرہ نام نہاد دانشور انہیں مہذب قوم کہتے ہیں جب کہ تہذیب نام کی ان میں کوئی شے نہیں، سر عام زنا کرتے ہیں، ماں بہن کو بھی معاف نہیں کرتے، کرپشن اور چور قوم ہے، برصغیر کا سارا خزانہ ان کے بڑوں نے لوٹا، دوسرے ممالک کے اثاثوں پر گزر بسر کرتے آئے، اس کے برعکس تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ کسی مسلمان نے ان کی تحریف شدہ انجیل کو جلایا ہو یا کسی دوسرے مذہب کی مقدس کتاب سے بے حرمتی کی ہو، اسے کہتے ہیں تربیت، جس کا سہرا مسلم علماء امت کے سر ہے۔