حدیث نمبر: 635
أَنْبَأَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ الْكُوفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ ، يَقُولُ : " عَرَضَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ ، فَمَنْ أَنْبَتَ مِنَّا قَتَلَهُ ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتِ اسْتَحْيَاهُ وَسَبَاهُ " .نوید مجید طیب
سیدنا عطیہ قرضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قریظہ والے دن پیش ہوئے، جس جس کے جوانی کے بال اُگے ہوئے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جو نابالغ نکلا اسے زندہ چھوڑ کر قیدی بنا لیا گیا۔
وضاحت:
➊ سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ یہود بنی قریظہ میں سے تھے، نابالغ ہونے کے باعث زندہ بچے اور اسلام لائے۔
➋ بنی قریظہ نے عین حالت جنگ میں خیانت عظمیٰ کا ارتکاب کیا پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو انہوں نے خود منصف تسلیم کیا کہ ہمارا فیصلہ سعد رضی اللہ عنہ کریں۔
➌ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق ان کے بالغ قتل کیے گئے، نابالغ بچے اور عورتیں قیدی بنا لیے گئے۔
➋ بنی قریظہ نے عین حالت جنگ میں خیانت عظمیٰ کا ارتکاب کیا پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو انہوں نے خود منصف تسلیم کیا کہ ہمارا فیصلہ سعد رضی اللہ عنہ کریں۔
➌ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق ان کے بالغ قتل کیے گئے، نابالغ بچے اور عورتیں قیدی بنا لیے گئے۔