حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِنَا ، فَقِيلَ لَهُ : أَلَيْسَ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حِلْفَ فِي الإِسْلامِ " ؟ فَقَالَ : حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِنَا . قَالَ سُفْيَانُ : فَسَّرَتْهُ الْعُلَمَاءُ : آخَى بَيْنَهُمْ .نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین و انصار کے درمیان عہد و پیماں کروایا تو اُن سے کہا گیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں فرمایا کہ ”اسلام میں کوئی تحالف نہیں ہے؟“ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین وانصار کے درمیان تحالف کرایا۔ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں علماء نے اس تحالف کی تفسیر مواخات کی ہے۔
وضاحت:
زمانہ جاہلیت میں لوگ قسمیں اٹھا کر ایک دوسرے سے وعدے لیتے، جیسے کفار نے مقاطعہ شعب ابی طالب پر قسمیں لیں یا کسی قبیلے سے جنگ پر قسمیں لیتے، تو اسلام نے اس طرح کے باطل تحالف کی نفی کی ہے کہ اسلام میں کوئی حلف نہیں اور جس تحالف کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں وہ حق بات، مؤاخات اور بھائی چارہ پر تحالف ہے جو کہ جائز ہے۔