حدیث نمبر: 621
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر و برکت ہے۔“
وضاحت:
➊ گھوڑے جہاد میں کام آتے ہیں، جب جہاد قیامت تک باقی ہے تو گھوڑے کی برکت بھی باقی ہے۔
➋ جو جہاد اللہ کے دین کے نفاذ کی خاطر ہو، جس سے مقصود اعلاء کلمۃ اللہ ہو وہ شرعی جہاد ہے اور جو محض زمین پر قبضہ کے لیے ہو جہاں درباروں، مزاروں کا قیام شرک کے اڈے اور شریعت کی بجائے جمہوریت اور اسلامی قانون کی بجائے انگریزی قوانین کا نفاذ ہو وہ شرعی جہاد نہیں ہے۔
➌ محض قتل و غارت گری مقصودِ شرع نہیں بلکہ مفتوحہ علاقے میں اسلامی نظام نافذ کرنا مقصودِ جہاد و مقصودِ شرع ہے۔
➋ جو جہاد اللہ کے دین کے نفاذ کی خاطر ہو، جس سے مقصود اعلاء کلمۃ اللہ ہو وہ شرعی جہاد ہے اور جو محض زمین پر قبضہ کے لیے ہو جہاں درباروں، مزاروں کا قیام شرک کے اڈے اور شریعت کی بجائے جمہوریت اور اسلامی قانون کی بجائے انگریزی قوانین کا نفاذ ہو وہ شرعی جہاد نہیں ہے۔
➌ محض قتل و غارت گری مقصودِ شرع نہیں بلکہ مفتوحہ علاقے میں اسلامی نظام نافذ کرنا مقصودِ جہاد و مقصودِ شرع ہے۔