عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ ، فَقَالَ لَنَا : " بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا " وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الآيَةَ . . . . . فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ , وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ .سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذرہ برابر بھی شرک نہیں کرو گے...“ پھر مذکورہ پوری آیت تلاوت کی۔ (پھر فرمایا) ”تم میں سے جو شخص اس شرط کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اور جو کوئی اس شرط کو توڑے اور اسے سزا مل جائے تو سزا اس کے لیے کفارہ بن جائے گی اور جو مذکورہ جرائم میں ملوث ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے جرم پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے تو معاف کر دے چاہے تو عذاب دے۔“