حدیث نمبر: 62
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ , ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ وَهُوَ يَسِيرُ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَأَشَارَ إِلَيَّ , فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي , فَقَالَ : " إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي " , وَهُوَ مُوَجَّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ .
نوید مجید طیب

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے کسی کام سے بھیجا جب میں واپس آیا تو آپ ﷺ کوچ کر رہے تھے میں نے سلام کیا آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا (حالت نماز میں) جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے مجھے بلایا اور فرمایا: ”تو نے ابھی سلام کیا تھا اور میں نماز میں تھا“ آپ ﷺ مشرق کی طرف جارہے تھے۔

وضاحت:
➊ یہ سفر کی بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی نماز سواری پر ادا کر رہے تھے۔
➋ سواری پر نماز شروع کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونا چاہیے پھر جدھر بھی رخ رہے جائز ہے۔
➌ یہ نہی کلام فی الصلاۃ کا ابتدائی دور تھا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نہ سمجھ پائے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو وضاحت فرمادی۔
➍ شریعت اسلامیہ میں نسخ موجود ہے۔
➎ نماز میں گفتگو ممنوع ہے۔
➏ سواری پر نفلی نماز ادا کرنے کی سنت کو بھی زندہ کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 62
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة باب تحریم الکلام فی الصلاة ونسخ ما کان من اباحة، رقم: 540۔