السنن المأثورة
باب ما جاء في صلاة الخوف— نماز خوف کا بیان
باب ما جاء في صلاة الخوف باب: نماز خوف کا بیان
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ , فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلاةِ , فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لأُسَلِّمَ عَلَيْهِ , فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ , فَجَلَسْتُ , حَتَّى إِذَا قَضَى صَلاتَهُ أَتَيْتُهُ , فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ , وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ أَنَّهُ قَضَى أَنْ لا تَتَكَلَّمُوا فِي الصَّلاةِ " .سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو ہجرت حبشہ سے پہلے حالت نماز میں سلام کہتے تھے آپ ﷺ نماز کی حالت میں ہی جواب دے دیتے، جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں خدمت رسالت میں حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ کو سلام کرلوں میں نے آپ ﷺ کو حالت نماز میں پایا، سلام کیا لیکن جواب نہ ملا مجھے کئی قسم کے خیالات نے آگھیرا، میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے نماز پوری کر لی، تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اپنے دین میں جو چاہتا ہے نیا حکم صادر فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ نے نیا حکم دیا ہے کہ نماز میں بات چیت نہ کی جائے۔“