حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ , فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلاةِ , فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لأُسَلِّمَ عَلَيْهِ , فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ , فَجَلَسْتُ , حَتَّى إِذَا قَضَى صَلاتَهُ أَتَيْتُهُ , فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ , وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ أَنَّهُ قَضَى أَنْ لا تَتَكَلَّمُوا فِي الصَّلاةِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو ہجرت حبشہ سے پہلے حالت نماز میں سلام کہتے تھے آپ ﷺ نماز کی حالت میں ہی جواب دے دیتے، جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں خدمت رسالت میں حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ کو سلام کرلوں میں نے آپ ﷺ کو حالت نماز میں پایا، سلام کیا لیکن جواب نہ ملا مجھے کئی قسم کے خیالات نے آگھیرا، میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے نماز پوری کر لی، تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اپنے دین میں جو چاہتا ہے نیا حکم صادر فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ نے نیا حکم دیا ہے کہ نماز میں بات چیت نہ کی جائے۔“

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 63
تخریج حدیث سنن النسائی، السهو، باب الکلام فی الصلاة، رقم: 1221؛ مسند احمد: 6/46، رقم: 3757۔