حدیث نمبر: 61
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ , عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَابِلٍ ، صَاحِبِ الْعَبَّاسِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : " مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً , وَقَالَ : لا أَعْلَمُ إِلا أَنَّهُ قَالَ : قَدْ أَشَارَ بِأُصْبُعِهِ .
نوید مجید طیب

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے میں نے سلام کیا آپ ﷺ نے اشارہ سے جواب دیا راوی حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے علم کے مطابق سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ﷺ نے اپنی انگلی کے اشارے سے جواب دیا۔

وضاحت:
➊ نمازی کو سلام مناسب آواز میں کیا جاسکتا ہے، نمازی اشارے سے جواب دے گا جس کے چار طریقے احادیث میں آئے ہیں۔
(1) ہاتھ سے اشارہ کر کے۔
(2) ہتھیلی سے اشارہ کر کے۔
(3) انگلی سے اشارہ کر کے۔
(4) سر سے اشارہ کر کے۔
➋ اسلام میں پہلے نماز میں ایک دوسرے سے کلام کرنا بھی جائز تھا، نماز میں وعلیکم السلام کہہ کر جواب دیا جاتا تھا پھر جب کلام منع ہوا تو صرف اشارہ سے جواب دینے کی اجازت باقی رہی۔ [حدیث نمبر: 62]
➌ بعض الناس نے عبادات کے لیے خود ساختہ اصول وضوابط بنائے۔ اس لیے بہت سی سنتوں پر عمل کرنے سے محروم ہیں۔ احادیث صحیحہ کی روشنی میں اشارہ سے جواب دینا درست ہے۔
➍ سیدنا صہیب رومی رضی اللہ عنہ مشہور و معروف جلیل القدر صحابی ہیں آپ سابقون الاولون میں سے ہیں بدر واحد، خندق اور دیگر غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے آپ نے 38 ھ کو مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 61
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب رد السلام فی الصلاة، رقم: 925؛ سنن ترمذی، الصلاة، باب ماجاء فی الاشارة فی الصلاة، رقم: 367؛ سنن نسائی، السهو، باب رد السلام بالاشارة فی الصلاة، رقم: 1186۔