السنن المأثورة
باب ما يحل من هتك حرمة مسلم— مسلمان کی ہتک عزت کرنے والے کی سزا کا بیان
باب ما يحل من هتك حرمة مسلم باب: مسلمان کی ہتک عزت کرنے والے کی سزا کا بیان
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ لَمْ نَدْرِ مَا سَارَّهُ حَتَّى جَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَهَرَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلا شَهَادَةَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ يُصَلِّي ؟ " قَالَ : بَلَى وَلا صَلاةَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُمْ " .عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں بیٹھے تھے ایک آدمی نے آکر سر گوشی کی پتہ نہ چلا کیا سر گوشی ہوئی حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونچی آواز میں بات کی تو پتہ چلا کہ وہ ایک منافق کے قتل کی اجازت مانگ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آواز بلند کی تو فرما رہے تھے: ”کیا وہ کلمہ نہیں پڑھتا؟“ اس آدمی نے عرض کی: ”کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لیکن اس کے کلمہ کا کوئی اعتبار نہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نمازی نہیں؟“ آدمی نے کہا: ”کیوں نہیں لیکن اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان ہی لوگوں کے قتل سے مجھے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔“