حدیث نمبر: 609
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهِ ، وَأَنَّ رَجُلا اطَّلَعَ عَلَيْهِ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ كَانَ فِي يَدِهِ كَأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَتَأَخَّرْ لَمْ يُبَالِ أَنْ يَطْعَنَهُ بِهِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تھے ایک آدمی نے آپ کے گھر میں جھانکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر لپکے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھا لگتا تھا اگر آدمی پیچھے نہ ہٹتا تو آپ اس کی آنکھ پھوڑنے کی پرواہ نہ کرتے۔

وضاحت:
➊ کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا ممنوع اور حرام ہے۔
➋ بعض استثنائی صورتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی بغیر اجازت جھانکنے والے کو عدالت کے بغیر سزا دے سکتا ہے۔
➌ بنیادی طور پر اجازت نگاہ کی وجہ سے ہے۔
➍ جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑنے سے پھوڑنے والے پر دیت نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما يحل من هتك حرمة مسلم / حدیث: 609
تخریج حدیث صحیح بخاری، الديات، باب من أخذ حقه او اقتص دون السلطان، رقم: 6889، صحيح مسلم، الآداب، باب تحريم النظر في بيت غيره، رقم: 2157۔