السنن المأثورة
باب ما يحل من هتك حرمة مسلم— مسلمان کی ہتک عزت کرنے والے کی سزا کا بیان
باب ما يحل من هتك حرمة مسلم باب: مسلمان کی ہتک عزت کرنے والے کی سزا کا بیان
حدیث نمبر: 611
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا أَزَالُ أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس وقت تک لوگوں سے لڑوں گا جب تک لوگ اقرار نہیں کر لیتے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں جب «لا اله الا الله» کہہ لیں گے تو اپنے خون اور مال مجھ سے بچالیں گے مگر اس کے حق کے ساتھ اور (باطن میں) ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“
وضاحت:
➊ جہاد فی سبیل اللہ کا بنیادی مقصد توحید و سنت کی اشاعت اور اعلاء کلمۃ اللہ یعنی غلبہ دین ہے۔
➋ توحید و رسالت کا اقرار کرنے والے کو مسلمان سمجھا جائے گا۔
➌ مال کے محفوظ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے فرد سے قتال نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے مال کو بطور غنیمت لیا جائے گا۔
➍ «الا بحقها» سے مراد وہ جرائم ہیں جن کی وجہ سے کسی کا خون بہانا جائز ہے۔ مثلاً قاتل کو قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا، اور ارتداد کی صورت میں مرتد کو قتل کر دینا۔
➎ اسلام ظاہر پر حکم لگاتا ہے، جو کلمہ نماز پڑھتا ہے ظاہری مسلمان ہے اسے قتل نہ کیا جائے گا اس پر اہل اسلام کے احکام نافذ ہوں گے باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے روزِ قیامت اللہ چاہے تو معاف فرما دے اور اگر چاہے تو گناہوں کی سزا دے۔
➋ توحید و رسالت کا اقرار کرنے والے کو مسلمان سمجھا جائے گا۔
➌ مال کے محفوظ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے فرد سے قتال نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے مال کو بطور غنیمت لیا جائے گا۔
➍ «الا بحقها» سے مراد وہ جرائم ہیں جن کی وجہ سے کسی کا خون بہانا جائز ہے۔ مثلاً قاتل کو قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا، اور ارتداد کی صورت میں مرتد کو قتل کر دینا۔
➎ اسلام ظاہر پر حکم لگاتا ہے، جو کلمہ نماز پڑھتا ہے ظاہری مسلمان ہے اسے قتل نہ کیا جائے گا اس پر اہل اسلام کے احکام نافذ ہوں گے باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے روزِ قیامت اللہ چاہے تو معاف فرما دے اور اگر چاہے تو گناہوں کی سزا دے۔