حدیث نمبر: 60
وَأَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ .
نوید مجید طیب

سیدنا صالح بن خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے حدیث مالک کی طرح یزید بن رومان سے بیان کرتے ہیں۔

وضاحت:
➊ اہل سیر و مغازی نے چار مقامات کا ذکر کیا ہے جہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی: ذات الرقاع، بطن نخل، عسفان اور ذی قرد۔
➋ نماز وہ فریضہ ہے جو حالت جنگ میں بھی معاف نہیں نماز خوف حضر وسفر جہاں بھی دشمن کا خوف ہو پڑھی جاسکتی ہے ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَوةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَفِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا﴾ [النساء: 101]
"اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز قصر کر لو، اگر تمھیں ڈر ہو کہ کافر (حملہ کر کے) تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے، بے شک کافر تمھارے کھلے دشمن ہیں۔" [سنن ابی داود: 1240]
مروان بن حکم رحمہ اللہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
➌ صلاۃ الخوف کی کئی صورتیں ہیں جن کو مفصل شروحات میں دیکھا جائے۔ اگر جنگ جاری ہو نماز خوف کی کوئی صورت بھی ممکن نہ ہو تو ﴿فَرِجَالاً أَوْ رُكْبَانًا﴾ جس حالت میں ہیں نماز پڑھ سکتے ہیں بغیر قبلہ کے ہی پڑھ لیں۔
➍ اگر اوپر سے تیر یا گولے مسلسل برس رہے ہیں تو غزوہ احزاب کی طرح قضا و جمع بھی کی جا سکتی ہیں کیونکہ ایسی صورت میں سوائے جمع کرنے کے اور کوئی حل نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 60
تخریج حدیث مسند الشافعی، رقم: 370؛ معرفة السنن والآثار للبيهقی: 1828۔