السنن المأثورة
باب جنايات البهائم وما أصيب في بئر أو معدن— جانوروں کی جنایات اور کنویں یا کان میں ہلاکت کا بیان
باب جنايات البهائم وما أصيب في بئر أو معدن باب: جانوروں کی جنایات اور کنویں یا کان میں ہلاکت کا بیان
حدیث نمبر: 606
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ ظَلَمَ مِنْ أَرْضٍ شِبْرًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .نوید مجید طیب
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مال کے دفاع میں مارا گیا وہ شہید ہے اور جس نے ظلماً زمین ہتھیائی اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“
وضاحت:
➊ ہر شخص کو اپنی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرنی چاہیے۔
➋ جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جانے والا شہید ہے۔
➌ چور اچکوں، دہشت گردوں، ڈاکوؤں سے لڑنا درست ہے۔
➍ کسی مسلمان کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنا حرام ہے جس کی آخرت میں انتہائی سخت سزا ہے۔
➋ جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جانے والا شہید ہے۔
➌ چور اچکوں، دہشت گردوں، ڈاکوؤں سے لڑنا درست ہے۔
➍ کسی مسلمان کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنا حرام ہے جس کی آخرت میں انتہائی سخت سزا ہے۔