السنن المأثورة
باب جنايات البهائم وما أصيب في بئر أو معدن— جانوروں کی جنایات اور کنویں یا کان میں ہلاکت کا بیان
باب جنايات البهائم وما أصيب في بئر أو معدن باب: جانوروں کی جنایات اور کنویں یا کان میں ہلاکت کا بیان
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى دَرَجَةِ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَأِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ وَدَمٍ وَمَالٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، إِلا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ فَإِنِّي أَمْضَيْتُهُمَا لأَهْلِهِمَا كَمَا كَانَتَا " .سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم فتح مکہ کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اس اللہ کی تعریف جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی لشکروں کو شکست فاش دی سنو! جو شخص شبہ عمد کی صورت میں کوڑے یا ڈنٹے سے خطا مارا جائے اس کی دیت سخت ہوگی جو کہ سو اونٹ ہیں جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی، خبر دار ہر فخر، خون اور جاہلیت کا مطالبہ مال میرے قدموں تلے روندھا گیا (یعنی ختم کر دیا گیا) ہاں حاجیوں کو پانی پلانا، کعبہ کی دیکھ بھال کو میں حسب سابق جاری رکھتا ہوں۔“
(ب) قتلِ خطا، ارادہ و نیت کے بغیر محض خطا سے کسی کا قتل ہو جانا۔
(ج) قتلِ شبہ عمد: جس میں قتل کا ارادہ و نیت تو نہ ہو لیکن مار پیٹ میں کسی ایسی چیز کا استعمال کرنا جس سے قتل واقع ہو جائے۔
➋ قتلِ شبہ عمد کی دیت مغلظہ یعنی بھاری و ثقیل ہے جس کی تفصیل حدیث میں بیان ہوئی۔
➌ جاہلی معاشرے کے رسوم و رواج دم توڑ چکے، عصبیت ختم ہو چکی، اب ہر مسلمان کو جاہلی معاشرے کے نسلی و برادری کے غرور اور رسوم و روایات سے دور رہنا ہو گا۔