حدیث نمبر: 604
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کے نقصان کا بدلہ نہیں اور کنویں کے نقصان رائیگاں ہے اور کان سے نقصان بھی رائیگاں ہے۔“

وضاحت:
➊ چونکہ جانور لاشعور ہے لہذا اس کے کسی کو زخمی کر دینے یا ہلاک کر دینے کی ذمہ داری مالک پر عائد نہیں ہوگی۔
➋ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ حدیث کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «والعجماء البهيمة من الانعام وغيرها، و الجبار هو الهدر الذى لا يغرم» [سنن ابن ماجہ: 2675]
عجماء سے مراد مویشی جانور وغیرہ ہیں اور جبار سے مراد وہ ہدر ہے جس کا کوئی تاوان نہیں ہے۔
➌ اسی طرح اگر مزدور کنویں میں دب جاتا ہے اور کان اوپر گر جاتی ہے تو مالک ذمہ دار نہیں کیونکہ بظاہر اس میں مالک کا قصور نہیں۔
➍ اگر ان دونوں صورتوں میں مالک کا قصور ثابت ہو جائے مثلاً خود کتا پیچھے لگائے یا کاٹنے والے جانور کو جان بوجھ کر شارعِ عام پر چھوڑ دے تو تعزیر سزا پائے گا اس طرح اگر گلی میں کنواں کھودواتا ہے یا باڑ نہیں لگاتا تو حالات و واقعات کے مطابق ذمہ دار ہوگا، عدالت اپنی فراست سے فیصلہ صادر کرے گی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب جنايات البهائم وما أصيب في بئر أو معدن / حدیث: 604
تخریج حدیث صحیح بخارى، الزكاة، باب في الركاز الخمس، رقم: 1499، صحيح مسلم، الحدود، باب جرح العجماء، والمعدن والبئر جبار، رقم: 1710۔