حدیث نمبر: 59
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلاةَ الْخَوْفِ , " أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ , وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ , فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً , ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا " , وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ , ثُمَّ انْصَرَفُوا , فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ , وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى " فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلاتِهِ , ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا , وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ , ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ " .
نوید مجید طیب

صالح بن خوات اس صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نماز خوف پڑھی تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوا جبکہ دوسرا دشمن کے سامنے، جو صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے انہوں نے ایک رکعت پڑھی دوسری رکعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام لمبا رکھا صحابہ رضی اللہ عنہم پیچھے اپنے طور پر دوسری رکعت پوری کر کے دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے پھر دوسرا گروہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو ایک بقیہ رکعت پڑھائی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کی دعائیں لمبی کر دیں حتی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دوسری رکعت پوری کر کے تشہد میں بیٹھ گے پھر اکٹھا سلام پھیرا۔

وضاحت:
➊ حدیث بالا میں صلاۃ الخوف کی جو صورت بیان ہوئی اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائی اور ایک رکعت انہوں نے اپنے طور پر پڑھی، پہلے گروہ نے خود سلام پھیرا جبکہ دوسرے گروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سلام پھیرا۔
➋ غزوہ ذات الرقاع 7 ہجری کو غزوہ خیبر کے بعد ہوا تھا۔
«عمن صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم» سے مراد راجح قول کے مطابق صالح بن خوات کے والد صحابی رسول خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن مندہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔ [دیکھئے: بلوغ المرام، کتاب الصلاة، باب الخوف]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 59
تخریج حدیث صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب صلاة الخوف، رقم : 842۔