حدیث نمبر: 5
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلامُ يُصَلِّي , قَدْ غَرَزَ ضَفْرَتَهُ فِي قَفَاهُ , فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ , فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا , فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : أَقْبِلْ عَلَى صَلاتِكَ وَلا تَغْضَبْ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ " . يَقُولُ : مَقْعَدُ الشَّيْطَانِ , يَعْنِي مَغْرَزَ ضَفْرَتِهِ .
نوید مجید طیب

سعید بن ابی سعید المقبری رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے حسن رضی اللہ عنہما نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے اپنی گدی میں بالوں کی چوٹی دھنسائی ہوئی تھی تو ابورافع رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جوڑا کھول دیا اس پر حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے غصے سے ان کی طرف دیکھا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا : نماز جاری رکھیں اور غصہ نہ ہوں بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : جوڑے کا یہ مقام شیطان کی بیٹھک ہے۔

وضاحت:
➊ ابو رافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں، اللہ رب العزت نے ان کو فہم و بصیرت دین سے نواز رکھا تھا۔ خلاف سنت ایک عمل کا مشاہدہ کیا فوراً اس کی اصلاح فرما دی۔
➋ غلطی کسی بھی شخصیت سے ممکن ہے البتہ کتاب و سنت سے دلیل مل جانے پر اس کی اصلاح کر لینا یہی اہل علم و دانش کا شیوہ ہے۔
➌ مردوں کے لیے عورتوں کی طرح اپنے بالوں کے جوڑے بنانا درست نہیں
➍ نمازی کی غلطی پر دورانِ نماز بھی اس کی اصلاح کرنا درست ہے۔ جیسا کہ ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کیا۔
➎ بعض امور کی انجام دہی شیطان کی خوشنودی کا باعث بنتی ہے مومن و مسلمان ایسے امور سے اجتناب کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 5
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب الرجل يصلى عاقصا شعره، رقم: 646، وقال الالباني: حسن سنن ترمذى الصلاة، باب كراهية كف الشعر في الصلاة، رقم: 384 وقال حسن۔