حدیث نمبر: 594
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ " ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ : وَكَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لا شَرِبَ وَلا أَكَلَ وَلا نَطَقَ وَلا اسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ " .
نوید مجید طیب

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین جسے ماں کے پیٹ میں قتل کیا گیا ہو اس کی دیت کے طور پر ایک غلام یا لونڈی دیئے جانے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ جسے دیت پڑی کہنے لگا: ”ایسے بچے کی کیسے چٹی بھروں جس نے نہ پیا نہ کھایا نہ بولا نہ آواز نکالی ایسے کی دیت کیسے پڑگئی؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ کاہنوں کا بھائی ہے۔“

وضاحت:
➊ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات قانون اور دین کا درجہ رکھتی ہے لہذا احکام شرعی کے مقابل غیر سنجیدہ گفتگو جس کی عملی زندگی میں کچھ حیثیت نہیں، درست نہیں ہے۔
➋ بعض دفعہ جسے سزا سنائی جاتی ہے وہ عدالت میں بڑبڑاتا ہے، عدالتیں ایسے موقع پر صرفِ نظر کرتی ہیں کیونکہ یہ بڑبڑانا بھی سزا کا جزء ہی ہوتا ہے۔
➌ اس کی گفتگو کہانت کی طرح باطل تھی جسے کسی قانون کی تائید حاصل نہ تھی۔
➍ دلائل شہادت صفائی کے موقع پر دیے جاتے ہیں نہ کہ سزا سن کر، کاہنوں کی طرح اسے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ پہلے کون سی بات کرنی ہے اور بعد میں کون سی یا سجع مقفی کلام پر اسے یہ خطاب ملا۔
➎ شرعی فیصلوں پر اعتراض کرنے والے کاہنوں اور شیطانوں کے بھائی ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب عقل الجنين / حدیث: 594
تخریج حدیث انظر ما قبلہ برقم: 593۔