أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : أُذَكِّرُ اللَّهَ امْرَأً سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْجَنِينِ بِشَيْءٍ " ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ بَيْنَ جَارِيَتَيْنِ لِي يَعْنِي ضَرَّتَيْنِ ، فَقَامَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى بِمِسْطَحِ عَمُودِ بَيْتِهَا فَضَرَبَتْهَا بِهِ فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوِ أَمَةٍ " . فَقَالَ عُمَرُ : اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ نَسْمَعْ هَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِهِ .سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی یاد دلا کر لوگوں سے پوچھا: ”کیا کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین کے بارے میں کوئی فیصلہ سنا ہے؟“ حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے کہنے لگے ”میری دو بیویاں سوکنیں آپس میں لڑ پڑیں ایک نے دوسری کو خیمے کے ستون سے مارا تو اسے قتل کر دیا اس کے پیٹ کے بچے کو بھی قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچے کے بارے میں فیصلہ دیا)۔“ اس کے عوض غلام یا لونڈی دی جائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ اکبر اگر ہم یہ نہ سنتے تو اس کے برعکس فیصلہ کر جاتے۔“
➋ دلیل آجانے کے بعد اس کی اتباع لازم و ضروری ہے۔
➌ اپنی رائے کے مقابل کتاب و سنت کو اختیار کرنا ہی سلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرز عمل ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ مسلمان کتاب و سنت سے دور ہوئے، تقلید و جمود نے کتاب و سنت سے دور کیا، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
گر نہیں ہے جستجوئے حق کا تجھ میں ذوق شوق
امتی کہلا کے پیغمبر کو تو رسوا نہ کر