حدیث نمبر: 593
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا ، " فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہذیل قبیلے کی دو عورتیں آپس میں لڑیں ایک نے دوسری کے (پیٹ پر) مارا تو اس کا حمل گر گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کیس میں ایک غلام یا لونڈی دیت میں دیئے جانے کا فیصلہ فرمایا۔
وضاحت:
➊ جنین سے مراد وہ بچہ ہے جو حاملہ کے پیٹ میں ہے ابھی پیدا نہیں ہوا۔
➋ اگر حمل چار ماہ دس دن یا اس سے زیادہ کا ہو تو اس کا بدل غلام یا لونڈی دی جائے گی، اگر بچہ پیدا ہو جائے پھر کوئی قتل کرے تو قصاص ہوگا، معاف کرنے کی صورت میں دیت ہوگی، اگر ساتھ حاملہ خاتون بھی مر جائے تو اس کا علیحدہ قصاص یا دیت ہوگی۔
➋ اگر حمل چار ماہ دس دن یا اس سے زیادہ کا ہو تو اس کا بدل غلام یا لونڈی دی جائے گی، اگر بچہ پیدا ہو جائے پھر کوئی قتل کرے تو قصاص ہوگا، معاف کرنے کی صورت میں دیت ہوگی، اگر ساتھ حاملہ خاتون بھی مر جائے تو اس کا علیحدہ قصاص یا دیت ہوگی۔