السنن المأثورة
باب صلاة الإمام بالواحد والاثنين— امام کا ایک یا دو مقتدیوں کو جماعت کرانے کا بیان
باب صلاة الإمام بالواحد والاثنين باب: امام کا ایک یا دو مقتدیوں کو جماعت کرانے کا بیان
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ , فَأَكَلَ مِنْهُ , ثُمَّ قَالَ : " قُومُوا , فَلأُصَلِّ لَكُمْ " , قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ , فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ , فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ , وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا , فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ انْصَرَفَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُن کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ تا کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے چٹائی دھوئی جو طولِ زمن سے کالی ہو چکی تھی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، میں اور ایک یتیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دادی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔
➋ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے گھرانے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد پیار تھا۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کی دعوت طعام قبول فرماتے اور ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔
➍ نفل نماز کسی بھی وقت باجماعت ادا کی جا سکتی ہے۔