حدیث نمبر: 589
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ : أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو الْمَقْتُولِ ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لَيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ : " كَبِّرْ كَبِّرْ " يُرِيدُ السِّنَّ ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ " ، فَكَتَبَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَكَتَبُوا : إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ ، وَمُحَيِّصَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ : " تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟ " قَالُوا : لا ، قَالَ : " أَفَيَحْلِفُ يَهُودُ " قَالُوا : لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ قَالَ سَهْلٌ : لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ .
نوید مجید طیب

سہل بن ابی خیثمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے انہیں قوم کے بزرگوں نے خبر دی کہ سیدنا عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر میں تنگ دستی کے باعث (کھجور لینے گئے) دونوں اپنی ضروریات کے لیے جدا ہوئے تو سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر دی گئی کہ سیدنا عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے گڑھے یا چشمہ پر پھینک دیا گیا ہے تو انہوں نے یہود سے کہا: واللہ تم نے انہیں قتل کیا ہے، یہود نے کہا اللہ کی قسم ہم نے قتل نہیں کیا تو محیصہ واپس آئے قوم کو خبر دی پھر وہ اور ان کے بڑے بھائی سیدنا حویصہ اور سیدنا عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ مقتول کے بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو محیصہ رضی اللہ عنہ بات کرنا چاہتے تھے کیونکہ خیبر میں وہی تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”بڑے کو بات کرنے دیں“ تو سیدنا حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود یا دیت اداء کریں یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں“ اس نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو خط لکھا تو یہود نے جواب لکھا کہ اللہ کی قسم ہم نے قتل نہیں کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حویصہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا تم قسم کھا کر اپنا کیس ثابت کر سکتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نہیں ہم عینی شاہد نہ تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ کی بجائے یہود پچاس قسمیں کھائیں اور بری ہو جائیں (کہ انہوں نے قتل نہیں کیا)؟“ صحابہ نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کفار کی قسم کو قبول کریں گے؟ (یعنی وہ کافر ہیں قسم کی حرمت کی پاسداری نہیں کریں گے)“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت اپنی طرف سے اداء کر دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جانب سو اونٹنیاں بھیجیں حتی کہ ان کے گھر آ گئیں تو سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في القسامة / حدیث: 589
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاحکام، باب کتاب الأحکام الی عمالہ، رقم: 7192، صحیح مسلم، القسامة والمحاربون، باب القسامة، رقم: 1669۔