حدیث نمبر: 588
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا غَالِبٌ التَّمَّارُ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي الأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”انگلیوں میں دس دس اونٹ دیت ہے۔“

وضاحت:
➊ قتل کی دیت سو اونٹ ہے لیکن اگر انسانی جسم کا کوئی عضو کٹ جائے تو اس کی اہمیت کے پیش نظر ہر عضو کی دیت مختلف ہوگی۔
➋ ناک انسانی وقار کا ایک بنیادی جز ہے اس لیے اس کے کٹ جانے کی دیت بھی سو اونٹ ہے بشرطیکہ ناک جڑ سے مکمل کٹ جائے۔
«مأمومه» سے مراد ایسا زخم ہے جو دماغ تک پہنچ جائے اور جائفہ سے مراد پیٹ میں لگنے والا گہرا زخم ہے۔
«الموضحة» موضحہ ایسا زخم ہے جو گوشت سے ہڈی کو ننگا کر دے اور ہڈی کو متاثر کرے اس پر پانچ اونٹ دیت ہے۔
➎ ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے اس میں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں برابر ہیں۔ [سنن ترمذي: 1391]
➏ چھنگلی اور انگوٹھے کی دیت بھی برابر دس اونٹ ہے۔ [صحيح بخاري:6995]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير / حدیث: 588
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الدیات، باب دیات الاعضاء، رقم: 4557 وقال الالبانی: صحیح، سنن نسائی، القسامة، باب عقل الأصابع، رقم 4843۔