حدیث نمبر: 585
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَهَا وَأَنَّهَا سَأَلَتْهُ : كَمْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ كِتَابَتِكِ ؟ فَذَكَرَ شَيْئًا قَدْ سَمَّاهُ فَأَمَرَتْهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَخَاهَا أَوِ ابْنَ أُخْتِهَا وَأَلْقَتِ الْحِجَابَ مِنْهُ وَقَالَتْ : عَلَيْكَ السَّلامُ وَذَكَرَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا كَانَ لإِحْدَاكُنَّ مُكَاتِبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ " . قَالَ سُفْيَانُ : وَسَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَثَبَّتَنِيهِ مَعْمَرٌ .
نوید مجید طیب

نبھان مولی ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھا تو انہوں نے پوچھا: ”تیری قیمت آزادی کتنی باقی ہے؟“ نبھان رضی اللہ عنہ نے رقم بتائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ”رقم میرے بھائی یا بھتیجے کو اداء کر دے“ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پردہ شروع کر دیا اور فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جب تم میں سے کسی کے مکاتب غلام کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ زر کتابت اداء کر سکے تو اسے اس غلام سے پردہ کرنا چاہیے۔“

وضاحت:
➊ غلام اور مالک کے درمیان مخصوص معاوضے کے عوض آزادی کا معاہدہ مکاتبت کہلاتا ہے اور ایسا معاہدہ کرنے والے غلام کو مکاتب کہتے ہیں۔
➋ مکاتبت شرعاً جائز ہے، غلاموں کی طرح لونڈیاں بھی مکاتبت کر سکتی ہیں بشرطیکہ وہ جائز طریقوں سے طے شدہ معاوضہ حاصل کر کے ادا کریں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير / حدیث: 585
تخریج حدیث سنن ابی داؤد العتق باب فی المکاتب یؤدی بعض کتائبہ الخ، رقم: 3928 وقال الالبانی: ضعیف، سنن ترمذی، البیوع، باب ماجاء فی المکاتب اذا کان عندہ ما یؤدی، رقم: 1261 وقال حسن صحیح۔