حدیث نمبر: 586
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ الْكُوفِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَدَعَا بَنِيهِ ، فَقَالَ : يَا بَنِيَّ إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنَ النَّارِ " .
نوید مجید طیب

شعبہ کوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدنا ابو بردہ رحمہ اللہ بن ابوموسی کے ساتھ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو بلایا اور فرمایا: ”اے بیٹے میں نے اپنے والد سے سنا کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے گردن آزاد کی تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک اعضاء کے بدلے آزاد کرنے والے کے ایک ایک اعضاء کو جہنم کی آگ سے آزاد فرمائے گا۔“

وضاحت:
➊ دین اسلام نے کسی کو بطور غلام یا لونڈی اپنے پاس رکھنے کی اجازت دی ہے۔
➋ غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا باعث اجر و ثواب اور انتہائی فضیلت والا عمل ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير / حدیث: 586
تخریج حدیث مسند الحمیدی، رقم: 767 وفي الصحیحین من غیر ھذا الطریق، صحیح بخاری، رقم: 2517، صحیح مسلم، رقم: 1509۔