حدیث نمبر: 584
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ ، وَأَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهَا : إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً فَعَلْتُ . قَالَ : فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا ، فَقَالُوا : لا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَنَا . قَالَ : فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
نوید مجید طیب

سیدہ عمرہ بنت عبد الرحمن رحمہ اللہ کہتی ہیں بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں مدد مانگنے آئی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے مالکان پسند کریں تو میں تیری قیمت یک مشت ادا کر دوں“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر انہیں بتایا انہوں نے کہا ”ایسا نہیں کریں گے ہاں اگر تیرا ولاء ہمیں مل جائے تو پھر کر لیں گے،“ عمرہ رحمہ اللہ کا خیال ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ”بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دے ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ہوتا ہے۔“

وضاحت:
➊ قرض کی ادائیگی کے لیے وسائل کی عدم موجودگی میں اہل اسلام سے مدد لینا جائز ہے۔
➋ نسبت ولاء اسی کی ہے جس نے آزادی دلائی۔
➌ کتاب و سنت کے منافی کوئی بھی عمل، شرط، معاملہ، لین دین جائز نہیں اگرچہ فریقین باطل شرائط پر راضی ہی کیوں نہ ہوں۔
➍ کسی کو نشانہ بنا کر غلطی کا احساس دلانے سے بہتر ہے مطلق بات کی جائے تاکہ سب کی اصلاح ہو سکے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير / حدیث: 584
تخریج حدیث صحیح بخاری، المکاتب باب بیع المکاتب، رقم: 2564، صحیح مسلم، العتق، باب انما الولاء لمن اعتق، رقم: 1504۔