حدیث نمبر: 583
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِي بَرِيرَةَ فَأُعْتِقَهَا ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ مَوَالِيهَا أَنْ أُعْتِقَهَا وَيَكُونُ الْوَلاءُ لَهُمْ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَمَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ " .
نوید مجید طیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے میں نے ارادہ کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دوں، اس کے مالکان نے مجھ پر شرط لگائی کہ آزاد آپ کریں حق ولاء ہمارے لیے ہوگا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے متعلق مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خرید کر آزاد کر دو، تعلق ولاء اسی کو ملے گا جس نے آزاد کیا“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ایسی ایسی شروط لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قانون میں موجود نہیں، اگر کسی نے قانون خداوندی کے برعکس شرط لگائی تو اسے کچھ نہیں ملے گا اگرچہ سو شروط ہی کیوں نہ ہوں۔“

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير / حدیث: 583
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب ذکر البیع والشراء علی المنبر فی المسجد، رقم: 456۔