حدیث نمبر: 582
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ . " فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَقَالُوا : لا إِلا أَنْ يَكُونَ وَلاؤُكَ لَنَا قَالَ مَالِكٌ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
نوید مجید طیب

سیدہ عمرہ بنت عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں مالی معاونت کے لیے آئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے مالکان راضی ہوں تو میں یک مشت رقم اداء کر کے تجھے آزاد کر دوں،“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالکان کو یہ بات کہی انہوں نے کہا ”نہیں مگر یہ کہ تعلق ولاء ہمارے لیے ہوگا،“ عمرہ رحمہ اللہ کہتی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس شرط کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے ان کی شرط نہ روکے لونڈی خرید کر آزاد کر دو بے شک تعلق ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔“

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير / حدیث: 582
تخریج حدیث صحیح بخاری، المکاتب، باب بیع المکاتب اذا رضی، رقم: 2564۔