السنن المأثورة
باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير— گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کا بیان
باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير باب: گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کا بیان
حدیث نمبر: 576
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، أَنْبَأَنَا صُهَيْبٌ ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورَةً فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ قَتْلِهَا " ، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا ؟ قَالَ : " يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلُهَا وَلا يَقْطَعْ رَأْسَهَا فَيَرْمِيَ بِهَا " .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چڑیا یا اس سے چھوٹا جانور ناحق قتل کیا تو اس سے اس قتل کے بارے میں اللہ تعالیٰ سوال کریں گے“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول اس کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ذبح کر کے کھائے نہ کہ اس کا سر کاٹ کر ہی پھینک دے۔“
وضاحت:
➊ شوقیہ شکار گناہ ہے شکار صرف خوراک حاصل کرنے کے لیے ہونا چاہیے پھر اگر جانور حلال ہے تو اسے کھائے نہ کہ ناحق مار کر پھینکا جائے اور اگر جانور حرام ہے تو اس کے شر سے بچنے کے لیے ہی اسے قتل کرنا جائز ہوگا نہ کہ شوق پورا کرنے کے لیے۔
➋ جانوروں کو باندھ کر نشانہ بازی کرنا بھی ممنوع ہے۔
➋ جانوروں کو باندھ کر نشانہ بازی کرنا بھی ممنوع ہے۔